| مومنو! پڑھتے رہو درود | صَلّی اللّٰہُ عَلٰی حَبِیبِہ مُحَمَّدٍ وَّآلِہ وَسَلَّمَ |
٢ مئی ٢٠٢٦
سوال: ماشاء اللہ بہت پیاری حدیث ہے میرے آقا سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔۔لیکن یہاں بہت...
٢ دسمبر ٢٠٢٢
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں، کہ آج کل ایک...
١٣ نومبر ٢٠٢٢
عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ درود شریف کو تسبیح پر گن کر پڑھتے ہیں۔ براہ مہربانی...

درود شریف کی برکت سے عید سج گئی
ایک بزرگ حضرت شیخ ابوالحسن بن حارث لیثی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ پابندِ شریعت ، متبع سنت اور درود و سلام کی بہت زیادہ کثرت کرتے تھے۔ فرماتے ہیں مجھ پر گردش کے دن آگئے۔ فقرو تنگدستی یہاں تک بڑھی کہ فاقہ کی نوبت آگئی۔ اسی عالم فاقہ مستی میں عید کی رات آگئی۔ میں بے حد پریشان تھا کہ صبح عید کا دن ہے، بچوں کیلئے نہ کوئی نئے کپڑے ہیں اور نہ ہی کھانے پینے کی چیزیں ہیں۔ ابھی رات کی چند گھڑیاں گزری ہوں گی کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔ جب میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ہاتھوں میں قندیلیں اٹھائے ہوئے کچھ لوگ دروازہ پر کھڑے ہیں، میں بے حد پریشان تھا کہ نہ جانے اس وقت یہ لوگ کیوں آئے ہیں کہ ان میں سے ایک خوش پوش شخص جو اس علاقے کا رئیس تھا ، آگے بڑھا اور اس نے کہا ، میں ابھی ابھی سورہا تھا کہ الحمدللہ میری قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ شہنشاہ کونین ﷺ میرے غریب خانہ پر تشریف لائے ہیں اور مجھ سے فرما رہے ہیں کہ ’’ابوالحسن اور اس کے بچے بڑی تنگدستی اور فقروفاقہ کے دن گزار رہے ہیں، تجھے اللہ عزوجل نے بہت کچھ دے رکھا ہے، جاؤ اور ان کی خدمت کرو۔ اس کے بچوں کیلئے کپڑے بھی ساتھ لے لو اور کچھ خرچ بھی دے آنا کہ وہ اچھے طریقے سے عید کرسکیں اور خوش ہوجائیں‘‘ یہ کچھ سامان عید کے لیے قبول فرمائیں اور میں درزی کو بھی ساتھ لایا ہوں آپ بچوں کو بلائیں تاکہ ان کے لباس کا ماپ لے کر ان کے کپڑے تیار کردئیے جائیں۔ پھر اس رئیس نےدرزیوں کو حکم دیا کہ پہلے بچوں کے کپڑے تیار کریں اور بعد میں بڑوں کے۔ لہٰذا صبح ہونے سے پہلے سب کچھ تیار ہوگیا اور صبح گھر والوں نے خوشی خوشی عید منائی۔ (سعادۃ الدارین)
مزید پڑھیے
درود شریف نہ پڑھنے والا خیر سے محروم ہے
علماء کرام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام کسی کے سامنے لیا جائے تو کم از کم ایک مرتبہ درود پڑھنا اس شخص پر واجب ہے اور اس کی کتنی فضیلت ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے: ’’قیامت کے روز میرے ساتھ رہنے کا مستحق سب سے زیادہ وہ شخص ہو گا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجے گا۔‘‘ (ترمذی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل ہو جائے، بھلا اس سے زیادہ خوش قسمتی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :’’جو شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے، ملائکہ اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا رہتا ہے۔‘‘ (ابن ماجہ) فرشتے اللہ کی مخلوق میں سے سب سے نیک اور پاک باز مخلوق ہیں اور اگر وہ کسی کیلئے رحمت و بخشش کی دعا کریں تو یقیناً اس شخص کے حق میں قبول ہو گی۔ ایک اور حدیث مبارکہ ہے کہ ’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس مرتبہ درود بھیجتے ہیں۔‘‘ (ابن ماجہ) فرشتوں کی دعائیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب قیامت میں حاصل ہو جانا کیا کم بڑی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اس شخص پر دس رحمتیں ایک درود شریف کے بدلے میں بھیجتا ہے اور اللہ کی رحمت حاصل ہو جائے تو یہ بڑے شرف کی بات ہے۔ لیکن ان تمام فضائل و مناقب کے بعد بھی اگر کوئی شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر وقت نہ سہی اس وقت بھی درود نہ پڑھے جب آپؐ کا نام نامی لیا جائے تو اس کی کیا حیثیت ہو گی؟ چنانچہ رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بخیل‘‘ ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘ (ترمذی) درود شریف پڑھنا باعث فضلیت و رحمت ہے۔ جو شخص دن میںکم از کم تین سو مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے وہ شخص کثرت سے درود پڑھنے والوں میں شمار ہوتا ہے۔ درود شریف کی سنت درود ابراہیمی پڑھنے سے بھی ادا ہو جاتی ہے اور اگر مختصراً صرف صلی اللہ علیہ وسلم پڑھے تو بھی درود ادا ہو جائے گا لہٰذا درود پڑھنے میں بخل سے کام نہ لیا جائے بلکہ جتنا ہو سکے درود پڑھیں ۔یہ ہم پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے ، جو کہ شافع محشر بھی ہیں اور رحمۃ للعالمین بھی۔ ساقی کوثر بھی ہیں اور اپنی امت کو میدانِ محشر میں نہ بھولنے والے بھی۔ جس وقت ہر ایک ’’نفسی، نفسی‘‘ پکارتا ہو گا اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ’’امتی، امتی‘‘ پکارتے ہوں گے۔
مزید پڑھیے
کتاب دلائل الخیرات کیسے لکھی گئی!
درود شریف کی برکت سے ایک معصوم بچی سے ایک کرامت ظاہر ہوئی۔ کتاب دلائل الخیرات کے مصنف ایک بار اتفاقاً ایک گاؤں میں تشریف لے گئے۔ نماز ظہر کا وقت اخیر ہوچکا تھا اور پانی موجود نہ تھا۔ آپ کے ساتھ کچھ مریدین اور خلفاء بھی تھے۔ تلاش و جستجو کے بعد آپ کو ایک کنواں نظر آیا، لیکن ڈول اور رسی نہیں تھی۔ حضرت شیخ صاحب موصوف کنویں کے چاروں چکر لگاتے اور سخت پریشان پھرتے رہے۔ لیکن اس دشواری کا حل نظر نہ آیا۔ اتفاقاً سامنے ایک مکان سے آٹھ یا نو سال کی ایک لڑکی بھی یہ ماجرا دیکھ رہی تھی۔ اس بچی نے حضرت شیخ صاحب سے کہا: اے شیخ آپ کے اس پریشانی کا باعث کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ بیٹی میں محمد بن سلیمان جزولی ہوں۔ ظہر کا وقت تنگ ہوچکا ہے۔ وضو کے لئے پانی کا کوئی ذریعہ نہیں۔ اس لئے پریشان ہوں تم ہی کوئی بندوبست کرو، تاکہ ہم وضو کر کے نماز ادا کریں۔ اس لڑکی نے جواب دیا کہ آپ اتنے بڑے مشہور معروف بزرگ ہیں اور ایک معمولی سا کام بھی انجام نہیں دے سکتے اور یہ کہہ کر لڑکی اپنے گھر سے باہر آئی اور آکر کنویں میں اپنا لعاب دہن یعنی منہ کا لعاب ڈال دیا۔ اس نے لعاب دہن ڈالتے ہی کنواں جوش مارنے لگا اور پانی باہر بہنا شروع ہوگیا۔ سب لوگوں نے وضو کیا اور نماز ادا کی۔ حضرت شیخ صاحب نماز سے فارغ ہونے کے بعد بڑے ادب واحترام سے اس لڑکی کے مکان پر تشریف لے گئے اور دستک دی، جب وہ بچی باہر آئی تو حضرت نے اس سے فرمایا: تمہیں اس خدا کی قسم جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور صراط مستقیم دکھایا ہے، بتادو کہ تم یہ مقام و مرتبہ کیسے حاصل کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ درحقیقت مجھے یہ مرتبہ اور عالی مقام حق تعالیٰ نے فلاں درودشریف پڑھنے پر عطا فرمایا اور حاصل ہوا ہے۔ جس کا ہمیشہ شوق و محبت سے ورد کرتی رہتی ہوں۔ پھر حضرت شیخ صاحب نے اس بچی سے وہ درود شریف سیکھا اور اس سے اس کی اجازت حاصل کی۔ اس کی اجازت کے بعد شیخ صاحب کے دل میں انتہائی شوق پیدا ہوا کہ ایک ایسی کتاب تحریر کی جائے جس میں تقریباً تمام دورد شریف جمع ہوں اور وہ درود شریف بھی اس کتاب میں تحریر کیا جائے جو اس معصوم لڑکی سے حاصل کیا تھا۔ اس کے بعد شیخ صاحب نے یہ کتاب ’’دلائل الخیرات‘‘‘ تحریر فرمائی اور حدیث مبارکہ میں جو درود شریف بھی مروی تھے، اس میں نقل فرمائے اور وہ دورد شریف بھی اس میں شامل کیا۔ پھر اس کتاب کو دلائل الخیرات کے نام سے موسوم کیا۔ وہ دورد شریف یہ ہے۔ اللھم علی سیدنا محمد و علی آل سیدنا محمد صلوٰۃ دائمۃ مقبولۃ تؤدی بھا عنا حقہ العظیم ترجمہ: الٰہی درود بھیج سردار حضرت محمدؐ پر اور ہمارے سردار محمدؐ کی آل پر ایسا درود کہ ہمیشہ رہے اور مقبول ہو کہ ادا ہو ساتھ اس کے ہم سے حق ان کا بڑا۔
مزید پڑھیےبراہ مہربانی سوال مختصر اور واضح درج کریں۔ جواب حاصل کرنے کے لیے فارم پُر کریں۔